اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ تیونسی آمر زین عابدین بن علی اور مصری فرعون حسنی مبارک کے زوال اور سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی زندگی کے خاتمے کے اثرات ظاہر بعد مشرق وسطی کا چہرہ بدل رہا ہے چنانچہ ابنا ہر روز ان تبدیلیوں کی سرخیان اپنی صارفین و قارئین کی نذر کرنی کی کوشش کری گی۔ الجزائر: ہزاروں مسلمانوں نے عبدالعزیز بو تفلیقہ کے خلاف مظاہرے کئے۔اردن: امریکی فوج کے اعلی اہلکار نے اردنی بادشاہ کو تعاون کا یقین دینی کے لئے اردن کا دورہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکہ کی طرف سے مصری فرعون کی مؤثر حمایت نہ ہونے پر، کیا اردنی بادشاہ مائیک مولن کی یقین دہائیوں سے مطمئن ہوسکیں گے؟یمن: علی عبداللہ صالح کی خلاف مظاہرے پر پولیس نے تشدد کیا اور خواتین سمیت کئی افراد کو زخمی کیا اور حراست میں لیا۔ یمن: دارالحکومت صنعاء میں 2000 افراد ـ جن میں اکثریت اسکولوں کے طلبہ کی تھی ـ نے میدان السبینہ کی طرف ریلی کا اہتمام کیا۔ مصر: اعلی فوجی کونسل نے اعلان کیا کہ اس ملک کا آئین معطل کیا گیا ہے اور انتخابات آئندہ چھ مہینوں میں منعقد ہونگے جبکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل بھی ان ہی مہینوں میں مکمل ہوگا۔یمن: عوامی احتجاج کا عروج، آمر علی عبداللہ صالح نے امریکہ کا دورہ ملتوی کردیا۔ مصر: حسنی مبارک کے زوال کے بعد صہیونی ریاست کی فوجی قیادت سے پہلا ٹیلیفونک رابطہ؛ اس مکالمے میں صہیونی وزیر دفاع ایہود بارک اور محمد حسین طنطاوی کے درمیان گفتگو ہوئی ہے لیکن تفصیلات کا کوئی علم نہیں۔مصر: مصری وزیر تبلیغات و اطلاعات انس الفقی کو استعفے کے بعد نظر بند کیا گیا۔ مصر: ٹیلی ویژن اناؤنسر محمود سعد جو انقلاب کے ایام میں انس الفقی کی ہدایت پر برطرف کئے گئے تھے آج بحال کئے گئے۔ الفقی نے انہیں ہدایت کی تھی کہ ٹیلی ویژن مصری نوجوانوں کا انقلاب بیرونی تحریک پر چل پڑا ہے لیکن انھوں نے انکار کیا اور برطرف کئے گئے۔محمود سعد نے کہا ہے کہ ان کے کل کے پروگرام کے مہمان پروفیسر احمد زوئل ہونگے جنہیں مصری حکومت نے ممنوع التصویر قرار دیا تھا۔ اردن: دارالحکومت امان میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا؛ پولیس تشدد کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ عبداللہ ثانی نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنا مشیر جھڑپوں کے مقام پر روانہ کیا۔ مصر: اٹارنی جنرل نے اعلان کیا سابق حکومت کے 43 اہلکار اٹارنی جنرل یا مسلح افواج کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر جانے سے محروم کئے گئے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے اس سے قبل حزب اقتدار کے سیکریٹری جنرل، احمد عز اور وزیر داخلہ حبیب العادلی کی نظر بندی کے احکامات جاری کئے تھے۔مصر: فوج، جس نے مبارک کے زوال کے بعد اقتدار سنبھالا ہے، نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ "عوام کی خدمت" کے نعرے کے ساتھ اپنے کام پر لوٹے۔بحرین: بحرینی حکومت کی سیکورٹی فورسز نے عوامی احتجاج کا راستہ روکنے کی غرض سے شدید سیکورٹی اقدامات انجام دیئے ہیں، مختلف علاقوں میں ناکے لگائے گئے ہیں اور چیکنگ پوسٹ قائم کئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کی ریلیوں کے بعد دوسری بڑی ریلی بحرین میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ یادرہے کہ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا بحرین کے ساحلوں پر تعینات ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کے ایک اعلی کارکن نے کہا کہ بحرین میں عوامی مظاہروں کو پولیس کی مزاحمت کا سامنا کرنے کی صورت میں شدید جھڑپوں اور خونریزی کا قوی امکان ہے۔ مصر: اخوان المسلمین نے اعلان کیا کہ اس جماعت کا کوئی رکن صدارتی انتخابات کے لئے نامزد نہیں ہوگا اور یہ جماعت پارلیمنٹ کی اکثر نشستیں حاصل کرنے کی کو شش بھی نہیں کرے گی۔ مصر: اعلی فوجی کونسل نے پارلیمنٹ کے دو ایوانوں کی تحلیل کا اعلان کیا۔ مصری عوام پارلیمان کو غیرقانونی سمجھتے تھے کیونکہ حسنی مبارک کی جماعت نے دھاندلی کرکے اکثریتی نشستیں حاصل کی تھیں۔ الجزایر / احتجاجات کا سلسلہ وسیع ہونے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئی ہیں کیونکہ الجزائر کی حکومت مصر کے انقلاب کے دہرائے جانے سے فکرمند ہے۔ .......
/110